ابنا: ڈيووس عالمي اقتصادي فورم کا قيام انيس سو اکہتر ميں عمل میں آيا تھا اور ہر سال مختلف ملکوں کے رہنما، سياسي اور اقتصادي ماہرين اس اجلاس ميں شرکت کرکے دنيا کے اہم سياسي اور اقتصادي معاملات پر تبادلہ خيال کرتے ہيں-
کلاؤس شواب نے تينتاليس سال قبل ڈيووس فورس قائم کي تھي جس کا مقصد يورپ اور امريکہ ميں سرمايہ دارانہ نظام چلانے والوں اور اس کا دفاع کرنے والوں کے لئے تبادلہ خيال کا ايک مرکز قائم کرنا تھا تاکہ سرمايہ دارانہ نظام کو بہتر بنانے اور اس کے راستے ميں حائل مالي اور اقتصادي مشکلات کے حل کا راستہ تلاش کيا جاسکے- ليکن آہستہ آہستہ اس اجلاس ميں شرکت کرنے والوں کي تعداد ميں اضافے کے ساتھ ساتھ اس کے موضوعات اور مسائل کا دائرہ وسيع تر ہوتا گيا اور آج اس اجلاس ميں دنيا بھر کے اعلي حکام ، بڑي بڑي کمپنيوں کے عہديدار اور سياسي و اقتصادي ماہرين شرکت کرتے ہيں-
قابل ذکر بات يہ ہے کہ ان دنوں ڈيووس اجلاس کے انعقاد کا مقصد عالمي سطح پر متنازعہ اقتصادي معاملات کے حل اور مالي مشکلات کو دور کرنے کا راستہ تلاش کرنا ہے- ليکن تاحال ڈيووس اجلاسوں ميں ايسے معلات کے حل کے لئے کوئي واضح لائحہ عمل طے نہيں کيا جاسکا ہے-اس وقت دنيا کو درپيش سب سے بڑا اقتصادي معاملہ ،دولت کي غير منصفانہ تقسيم کا ہے اور اس بارے ميں جاري ہونے والي رپورٹوں سے اس الميہ کي گہرائي کا بخوبي اندازہ لگايا جاسکتا ہے-
اوکسفام نامي ادارے نے عالمي اقتصادي فورم کے اجلاس سے پہلے ايک رپورٹ جاري کي ہے جس ميں کہا گيا ہے کہ دنيا کے پچاسي دولت مند افراد کے پاس دنيا کي آدھي آبادي کے برابر دولت ہے- ادارے نے امير اور غريب کے درميان فاصلوں کے بارے ميں سخت خبر دار کيا ہے- آکسفام نے اپني رپورٹ ميں دولت مندوں کے چھوٹے گروپ اور کروڑوں دوسرے انسانوں کے درمياں پائي جانميے والي اس بڑي خليج کو قابل مذمت قرار ديتے ہوئے متنبہ کيا ہے کہ اس کے نتيجے ميں دنيا ميں شديد سماجي بدامني پھيل سکتي ہے- رپورٹ ميں کہا گيا ہے کہ دنيا کي ستر في صد آبادي ايسے ملکوں ميں آباد ہے جہاں گزشتہ تيس برس کے دوران امير اور غريب کے دوران فاصلوں ميں اضافہ ہوا ہے -
ايسا دکھائي ديتا ہے کہ ڈيووس اجلاس نے ايسي بنيادي مشکلات کے حل کے لئے کوئي خاص کارنامہ انجام نہيں ديا ہے بلکہ اس اجلاس کو ايسے مسائل اور معاملات کي فکر لاحق ہے جن کے ذريعے سرمايہ دارانہ نظام کو بہتر بنايا جائے اور ترقي يافتہ ملکوں کي بڑي بڑي کمپنيوں کے مفادات کے حصول ميں حائل روکاوٹوں کو دور کيا جاسکے -
ساتھ ہي يہ اجلاس با اثر شخصيات اور سماجي و سياسي ماہرين کے لئے اظہار خيال کا بھي ايک ٹريبون شمار ہوتا ہے- درحقيقت ڈيووس اجلاس کي اہميت اس ميں شريک اہم سياسي اور اقتصادي شخصيات اور آزادانہ اور وسيع بحث و مباحثوں کي وجہ سے جو اکثر اوقات بہت ہي تند و تيز صورت اختيار کرجاتے ہيں.
.......
/169